Monday, August 24, 2009

جسونت سنگھ کا حشر‘ پاکستان کیلئے سبق آموز واقعہ
Different ـ 20 اگست ، 2009
 
بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو اپنی کتاب ’’جناح‘ انڈیا‘ پارٹیشن‘ انڈیپنڈنس‘‘ میں قائداعظم محمد علی جناح کی تعریف کرنے پر پارٹی سے نکال دیا ہے جبکہ کانگریسی کارکنوں نے کتاب کی ہزاروں کاپیاں نذر آتش کرکے اپنے غصے اور نفرت کا اظہار کیا۔ شملہ میں تین روزہ اجلاس کے بعد بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ سنگھ نے جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلے کا اعلان کیا‘ جسونت سنگھ نے فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میں جو لکھا‘ تاریخ کا حصہ ہے‘ کتاب لکھ کر کوئی گناہ نہیں کیا‘ جس دن ہندوستان کی سیاسی جماعتوں میں لکھنے پڑھنے اور بحث و مباحثے کا سلسلہ بند ہو جائیگا‘ وہ دن ملک کی سیاست کیلئے بہت برا دن ہو گا۔ 
برصغیر ہند کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے سلسلے میں قائداعظم محمد علی جناح کے شفاف کردار کا اعتراف ان کے انگریز اور ہندو ناقدین بھی کرتے ہیں اور یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کیخلاف انگریز اور ہندو کے متعصبانہ رویے اور امتیازی سلوک نے مسلم قیادت اور عوام کو ایک الگ وطن کے قیام پر مجبور کیا‘ مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ نے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کیخلاف ہندوئوں کی ریشہ دوانیوں‘ حقوق غصب کرنے کی سازشوں اور آئے دن کے فرقہ ورانہ فسادات کے پیش نظر مسلمانوں کے الگ وطن کا تصور پیش کیا‘ جہاں مسلمان نہ صرف پرامن زندگی بسر کرسکیں بلکہ اپنے نظریات اور اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے ذریعے ایک اسلامی جمہوری فلاحی معاشرہ وجود میں لا سکیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھرپور کوشش کی کہ کانگریس کی برہمن قیادت مسلمانوں کا الگ وجود اور تشخص تسلیم کرتے ہوئے انکے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کرائے مگر وہ مسلم لیگ اور قائداعظم کو مسلمانوں کا نمائندہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھی۔ دو قومی نظریہ کے مسلسل انکار اور متحدہ قومیت پر اصرار کی وجہ سے مسلمانوں نے پاکستان سے کم کوئی چیز قبول کرنے سے انکار کیا اور انکی جمہوری جدوجہد کی وجہ سے پاکستان قائم ہو کر رہا۔ 
گاندھی‘ جواہر لال نہرو اور پٹیل کی ہٹ دھرمی بھی تاریخ کا حصہ ہے اور تقسیم کے وقت ہندو مسلم فسادات بھی اس ہٹ دھرمی اور مسلم دشمنی کی وجہ سے ہوئے‘ مولانا ابوالکلام آزاد نے اعتراف کیا ہے کہ پٹیل اور نہرو نے پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کی الگ ریاست کو اس خوش فہمی کی بناء پر تسلیم کیا کہ اقتصادی و معاشی مشکلات کی بناء پر یہ جلد ہی پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت اور کانگریس کی جھولی میں آگرے گی۔ جسونت سنگھ نے بھی دوسرے ہندوستانی لیڈروں کی طرح کٹر نیشنلسٹ اور قیام پاکستان کے مخالف ہیں‘ البتہ کتاب لکھتے ہوئے انہوں نے تاریخی حقائق کی بناء پر قائداعظم محمدعلی جناح کے درست موقف اور تاریخی جدوجہد کا اعتراف کیا ہے جو بی جے پی اور کانگریس دونوں کی ’’انتہا پسند‘ اسلام و پاکستان دشمن اور تنگ نظر قیادت سے برداشت نہیں ہوا اور اس سے پہلے کہ کانگریس ملک بھر میں طوفان بدتمیزی برپا کرتی‘ بی جے پی نے اپنے تیس سالہ پرانے وفادار لیڈر کو جماعت سے فارغ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ 62 سال گزرنے کے باوجود نہ تو ہندو ذہنیت تبدیل ہوئی‘ نہ برصغیر کے مسلمانوں کے عظیم رہنما اور بانی پاکستان قائداعظم کیخلاف بغض و عناد میں کمی آئی ہے اور نہ پاکستان کے الگ وجود کو صدق دل سے تسلیم کیا گیا ہے۔ 
جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں بھی ڈنڈی ماری ہے اور قائداعظم کی خدمات اور کردار کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے عملاً یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کا قیام جواہر لال نہرو اور پٹیل کی تاریخی غلطی کا نتیجہ تھا‘ ایک لحاظ سے انہوں نے مسلمانوں کی الگ وطن کیلئے جدوجہد اور قائداعظم کی سیاسی بصیرت کی نفی کی ہے مگر انتہا پسند بی جے پی سے یہ بھی برداشت نہیں ہوا اور اس نے اپنے اس دیرینہ لیڈر کو جماعت سے خارج کرکے سخت ترین سزا دی جبکہ سیکولرزم اور رواداری کے پرچارک سابق وزیر خارجہ کی کتاب کی ہزاروں کاپیاں جلا کر تعصب‘ تنگ نظری اور نفرت کا اظہار کیا گیا۔ بھارت کی برہمن قیادت اور ہندو ذہنیت تو آج بھی وہی ہے جو چھ سات عشرے قبل تھی‘ بھارت کی جنگی تیاریاں‘ پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈہ اور حیلوں بہانوں سے جارحیت‘ مداخلت اور تخریب کاری کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے۔ آبی دہشت گردی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ پاکستان کے دریائوں پر بند باندھ کر مسلم ریاست کو بنجر صحرا میں بدل دیا جائے لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے محرکات اور نظریہ پاکستان سے یکسر نابلد بعض پاکستانی قلمکار اور بھارت سے مرعوب سیاست دان یہ ڈفلی بجانے میں مصروف ہیں کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کو خوشگوار باہمی تعلقات کے قیام میں آڑے نہ آنے دیں۔ ان کے خیال میں بھارت پاکستان کے وجود کا مخالف نہیں اور دونوں ملک اقتصادی‘ ثقافتی اور سفارتی روابط میں بہتری لا کر ایک دوسرے کے ساتھ تعمیر و ترقی کی منزلیں طے کر سکتے ہیں۔ 
ان میں سے بعض تو بھارت کی سیاسی‘ اقتصادی اور فوجی بالادستی کو بھی برا نہیں سمجھتے اور انہیں ہر برائی پاکستان میں نظر آتی ہے۔ بھارت کی جمہوریت‘ سیکولرزم‘ رواداری‘ روشن خیالی اور بین الاقوامی اہمیت کے گیت گانے والے ان شردھالوئوں میں اگر ذرا سی بھی قومی حمیت ہو تو وہ جسونت سنگھ کے حشر سے سبق حاصل کریں اور دیکھیں کہ پاکستان میں گاندھی‘ بھگتوں سے کسی نے ایسا سلوک نہیں کیا‘ خان عبدالولی خان کی قائداعظم کیخلاف کتاب بھی منظر عام پر آئی جبکہ آج بھی بھارت اور بھارتی قیادت کے حق میں نہ صرف تحریریں دھڑلے سے چھپ رہی ہیں بلکہ بعض ٹی وی چینلز عریاں بھارتی ثقافت کو فخریہ طور پر پیش کر رہے ہیں اور بعض اینکر اپنے ہر پروگرام کی تان بھارت کی مدح سرائی پر توڑتے ہیں۔ مگر ان سے کبھی کسی نے تعرض نہیں کیا۔ بھارت کو پاکستان کیلئے خطرہ قرار نہ دینے والے سیاست دان ایوان صدر میں براجمان ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم اور قائداعظم کی جماعت مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی بھارت سے یہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرکے تجارت اور اقتصادی روابط کو پروان چڑھائے۔ جسونت سنگھ کا حشر تمام پاکستانی قائدین‘ دانشوروں‘ تجزیہ نگاروں اور عوام کیلئے سبق آموز ہے‘ یہ بھارت کا اصل چہرہ ہے اور اسی بھارت کے بارے میں پاکستان کے محب وطن عوام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ ہمارے لئے خطرہ ہے اور ہمیں اس کی شرارتوں‘ ریشہ دوانیوں اور جارحانہ عزائم کے مقابلے کیلئے اپنے گھوڑے ایٹمی ہتھیار اور میزائل ہر وقت تیار رکھنے چاہئیں۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ بھارت پاکستان کیلئے خطرہ نہیں تو پھر ایٹمی پروگرام‘ میزائلوں‘ جدید ہتھیاروں اور اتنی بڑی فوج کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ چین‘ ایران اور افغانستان میں سے کوئی دوسرا ہمسایہ تو ہمارا دشمن نہیں‘ جس کا مقابلہ کرنے کیلئے یہ تام جھام ضروری ہو۔ 
عوام کے استحصال کیلئے حکومت اور شوگر مل مالکان کا ایکا
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف نے چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ فاضل چیف جسٹس نے چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کے معاملہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ روز باور کرایا کہ اگر حکومت نے عوامی مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہ کئے تو کل عوام انہیں بھی مسترد کردیں گے، فاضل عدالت نے یہ بھی باور کرایا کہ ملزمالکان کے مفادات کا بہت تحفظ ہوچکا، اب عوام کے مفاد کو بھی دیکھا جائے اور چینی پر حکومتی ڈیوٹیاں زیادہ ہیں تو انہیں کم کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
وفاقی وزیرصنعت و پیداوار میاں منظور احمد وٹو نے گزشتہ روز جس پراسرار انداز میں شوگر مل مالکان کے نمائندوں سے مذاکرات کرکے ذخیرہ اندوزی کرنیوالی شوگر ملوں کیخلاف کریک ڈائون ختم کرایا، انکی جانب سے ازخود بڑھائے گئے چینی کے نرخ بھی برقرار رکھے اور چینی کے حالیہ بحران میں انہیں بے قصور بھی قرار دیا‘ اس سے حکومت کی غریب عوام کے ساتھ ہمدردی اور اخلاص کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ شوگر مل مالکان نے باہم متحد ہو کر جیسے ہی مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کی، اسی وقت حکومتی انتظامی مشینری حرکت میں آتی، ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی اور چینی کے ازخود بڑھائے گئے نرخوں سے حاصل ہونے والا منافع بھی ان سے وصول کرلیا جاتا مگر حکومت تو خود ان ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کا دست و بازو بنتی نظر آتی ہے جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ایوان اقتدار میں موجود لوگ صرف اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے بیٹھے ہیں اور انہیں عوام الناس اور ان کے گوناں گوں مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
اگر حکومت خود عوام کے دکھ اور درد کا احساس کرتے ہوئے انہیں ریلیف دے رہی ہو، مہنگائی اور غربت کم کرنے کی تدابیر اختیار کر رہی ہو اور اس وطن عزیز کو بانیان پاکستان کی خواہشات کے عین مطابق اسلامی، جمہوری فلاحی ریاست بنانے کے جذبے سے سرشار ہو تو عدالتوں کو شہری حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات کا ازخود اختیارات کے تحت کیوں نوٹس لینا پڑے۔ عدلیہ نے تو بہرصورت شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنا فریضہ ادا کرنا ہے تاہم عوام کے ساتھ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، اقتدار کے ایوانوں اور مجالس قانون ساز میں بھی ہونا چاہئے۔ اگر حکومت مراعات یافتہ طبقات کا تحفظ کرتی رہے گی اور غربت، مہنگائی اور دیگر مسائل کے مارے عوام کی جانب کوئی توجہ نہیں دیگی تو اس سے جنم لینے والی ناانصافی کا سدباب کرنا عدلیہ کی ذمہ داری بنتی ہے، ریاست کایہ آئینی ستون تو اب اپنے ادارے کا بگاڑ درست کرکے انصاف کے بول بالا اور قانون و آئین کی حکمرانی کی منزل کی جانب گامزن ہے مگر حکومت اور اس کی انتظامی مشینری بدستور مصلحتوں، مفاہمتوں کا شکارنظر آتی ہے اور مفاد پرست ٹولے کا دست و بازو بن کر اس سے اپنے اقتدار کے تحفظ کی یقین دہانیاں حاصل کر رہی ہے۔ اب عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو مفاد پرست ٹولے کے شکنجے سے باہر نکالنے کیلئے اپنی تحریک میں زور پیدا کریں اور بالادست طبقات کی عوامی مفادات کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دیں، بصورت دیگر حکومت کے کرنے کے کام بھی بالآخر عدلیہ کو ہی کرنا پڑیں گے۔
پولیس کا مظاہرین پر تشدد 
سول لائنز ڈویژن پولیس نے شاد باغ ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہونے والے باپ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ لے کر وزیر اعلیٰ ہائوس پہنچنے والے متاثرہ خاندان پر شدید لاٹھی چارج کردیا جس سے خواتین‘ بچوں اور بوڑھوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ 
25 لاکھ کی ڈکیتی اور دہرے قتل کی واردات‘ 14 جولائی کو ہوئی‘ پولیس کی طرف سے اطمینان بخش اقدامات نہ ہونے پر لواحقین کو احتجاج اور مظاہرہ کرنا پڑا۔ ایس ایس پی ریس کورس بھاری نفری کو ساتھ ملا کر احتجاج ختم کرانے آئے تھے لیکن بری حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو مزید مشتعل کرکے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیا گیا۔ 
اگر پولیس نے مقتولین کے خاندان کو انصاف فراہم کیا ہوتا یا کوشش ہی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اب یہ لوگ مزید ایک انکوائری بھگتیں گے۔ دہرے قتل اور ڈکیتی کی انکوائری اپنی جگہ پر موجود‘ ملزموں کی گرفتاری اور برآمدگی کا معاملہ بھی لٹکتا رہے گا۔ ایسے میں مظلوم خاندان دہرے تہرے عذاب میں مبتلا ہو گیا ہے۔ پولیس کی تنخواہوں میں اندھا دھند اضافہ اس لئے تو نہیں کیا گیا کہ ملزموں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے عام شہریوں بوڑھوں اور خواتین کو ٹھڈے اور تھپڑ مارے۔ پولیس کے ایسے رویے سے حکومت کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ آج صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا اندازہ لاہور جیسے شہر میں چالیس چالیس لاکھ تک رپورٹ ہونے والی ڈکیتیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ آئی جی صاحب پولیس کا قبلہ درست کرنے کیلئے سخت اقدامات کریں‘ تاکہ یہ تاثر بھی ختم ہو کہ اکثر وارداتیں پولیس کی ملی بھگت سے ہوتی ہیں۔